الیکشن 2018 سے متعلق چند دلچسپ اعداد و شمار

آج کے اخبارات کو کھنگالا تو الیکشن 2018 پہ ہونے والے اخراجات کے متعلق کچھ ہوشربا حقائق سامنے آئے جن میں سے چند ایک یہ ہیں:

1. الیکشن 2018 پاکستان کی تاریخ کے مہنگے ترین الیکشن ہونے جا رہے ہیں جس کی کل لاگت کا تخمینہ تقریباً چار سو چالیس ارب روپےسے زائد کا لگایا گیا ہے۔

2. ان اخراجات میں حکومتی اخراجات تقریباً 40 ارب روپے ہیں جن میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کو 21 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ دیگر اخراجات وٖفاقی و صوبائی حکومتوں اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے خرچ کئے جائیں گے۔

3. حکومتی اخراجات بیلٹ پیپرز کی پرنٹنگ، انتخابی عمل کی سکیورٹی، انتخابی عملہ کی ٹریننگ، ٹرانسپورٹیشن اور عملہ کے اعزازیہ وغیرہ کی مد میں ہیں۔

4. انتخابات 2018 کے لئے حکومتی اخراجات تقریبا 198 روپے فی ووٹر ہیں جو کہ 2013 کے انتخابات میں 55 روپے اور 2008 میں 22 روپے فی ووٹر تھے۔

5. ان انتخابات کے لئے پریذائڈنگ افسر اور پولنگ افسر کا اعزازیہ 3000 سے بڑھا کر بالترتیب 8000 اور 6000 کر دیا گیا ہے اس کے علاوہ الیکشن مٹیریل کی ترسیل کے لئے ایک نائب قاصد فی پریذائڈنگ افسر بھی مہیا کیا جائے گا۔

6. اس بار انتخابات فوج کی مکمل نگرانی اور سخت ترین سکیورٹی میں کروائے جا رہے ہیں جس کے لئے تقریبا آٹھ لاکھ سکیورٹی اہلکار اپنے فرائض سر انجام دیں گے۔ ان میں تین لاکھ ستر ہزار کے قریب فوجی جوان اور افسران شامل ہیں جبکہ دیگر اہلکاروں میں پولیس اور رضا کاران وغیرہ شامل ہیں۔

7. فوج کے دو جوان پولنگ اسٹیشن کے اندر جبکہ کم ازکم ایک جوان پولنگ اسٹیشن کے باہر تعینات ہو گا۔ انتخابات 2013 میں صرف حساس پولنگ اسٹیشنز پر ہی فوج تعینات کی گئی تھی۔

8. الیکشن سکیورٹی کے حوالے سے ملک بھر کے اٹھارہ ہزار حساس پولنگ اسٹیشنز میں کیمرے نسب کئے جارہے ہیں۔

9. الیکشن سکیورٹی پر آنے والے حکومتی اخراجات 10 ارب روپے سے زائد ہیں۔

10. سیکریٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق الیکشن 2018 کو شفاف بنانے کے لئے سپیشل بیلٹ پیپرز بیرون ملک سے امپورٹ کئے گئے ہیں جس کے لئے حکومتی اخراجات میں سے سب سے زیادہ رقم اسی مد میں خرچ کی گئی ہے۔

11. ایک تخمینہ لگایا گیا ہے کہ ان انتخابات میں تقریبا 400 ارب روپے سیاسی پارٹیاں اور امیدواران اپنی اپنی جیت کے لئے صرف کریں گے۔ یہ قم پارٹی یا ذاتی تشہیر، ٹرانسپورٹ، جلسےو کارنر میٹنگز، پارٹی دفاتر، کھانا، امیدواران کی سکیورٹی اور دیگر اخراجات کے لئے خرچ کی جا رہی ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق اس رقم کا 40 فیصد حصہ پارٹی ٹکٹ ملنے یا کاغذات نامزدگی جمع کروانے سے لے کر الیکشن سے ایک دن قبل تک خرچ کیا جاتا ہے اور باقی 60 فیصد صرف الیکشن والے دن خرچ کیا جاتا ہے یعنی الیکشن والے ایک دن میں ڈھائی سو ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔ ایک اندازے کے مطابق اوسطاً ایک قومی اسمبلی کے حلقے میں تقریبا اسی لاکھ روپے صرف الیکشن والے دن خرچ کئے جاتے ہیں۔

12. یہ تمام تر نجی اخراجات پارٹی فنڈ، امیدواران کی ذاتی جیب، عطیات یا مختلف بڑے بڑے کاروباری گروپس کی طرف سے دئے گئے پیسے سے پورے کئے جائیں گے۔

ان سب تجزیات کو مد نظر رکھ کر ہمیں ذاتی طور پر دو باتوں کو ذہن میں رکھنا انتہائی ضروری ہے: اول یہ کہ یہ جتنی بھی رقم انتخابات پر خرچ کی جا رہی ہے اس کا بالواسطہ یا بلا واسطہ تعلق ہماری جیبوں سے ضرور ہے، دوئم یہ کہ یہ رقم چونکہ ہماری جیب سے جا رہی ہے اسلئے اب یہ ضروری ہو چکا ہے کہ ہم اپنے ووٹ کا حق انتہائی سوچ سمجھ کر کریں بالکل اسی طرح جیسے ہم اپنے پیسوں سے کوئی بھی چیز خریدنے سے پہلےمکمل تسلی کرتے ہیں کہ خریدی جانے والی چیز اس قیمت کی حقدار ہے بھی کہ نہیں- اور آخری بات یہ بھی ذہن میں رکھئیے گا کہ یہ موقع ہمیں دوبارہ پانچ سال بعد ملے گا۔ اللہ ہم سب کو اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لئے درست فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

نوٹ: یہ میری اپنی تحریر نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *