کشمیری بچے

 

یہ میری اپنی لکھی ہویی تحریر ہے۔
چند دن قبل میرا اپنے آبائی علاقہ کشمیر جانا ہوا، صرف دو دن وہاں رکا اور پھر واپسی۔
۱۶ اگست بدھ کا دن تھا جب میں راولاکوٹ کے ایک قریبی گاوں سے پنڈی کے لئے ایک ٹیوٹاہائی ایس میں سوار ہوا۔
ڈائریکٹ اس واقعہ کی طرف آتا ہوں جس نے مجھے نہ صرف جھنھوڑ کر دکھ دیا بلکہ گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ہی میری آنکھیں بھی نم ہوئیں اور کراچی پہنچ کر بھی کئی بار نیند بھاگ گئی۔
واقعہ کچھ یوں ہے کہ پتن سے پہلے کا کوئی علاقہ تھا ہماری گاڑی روڈ پر رواں دواں تھی، گا ڑی نے ایک موڑ لیا ، تھوڑا دور اسکول کے پانچھ چھ بچے کھڑے نظر آئے۔ جیسے ہی گاڑی ان کے قریب ہوئی تو ایک بچہ نے گاڑی کو روکنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، لیکن ڈرائیور نے گاڑی نہیں روکی، لیکن قریباً ایک دو میٹر ہی آگے گیا ہوگا کہ گاڑی روک دی اور فوراً اونچی آوازمیں بولا کہ
واسطہ ناں بایا، اچھی بیجّا۔
یعنی واسطہ نہیں دینا، آو آکر بیٹھو۔
وہ بچے بھاگتے ہوئے آئے اور گاڑی میں سوار ہو گئے۔
گاڑی میں صرف ایک یا دو سواریوں کی جگہ تھی، لیکن وہ پانچ چھ بچے کسی نہ کسی طرح ایڈجسٹ ہو گئے۔
یہاں تک کہ ایک بچہ اس جگہ بیٹھا ہوا تھا کہ اس کی کمر فرنٹ سیٹ کی جانب تھی۔ فقط آدھا سے پونے فٹ کی جگہ کر وہ سہما سمٹا بیٹھا تھا۔
یقین مانیے میں اس بچے سے نظریں نہ ہٹا سکا، اسے مسلسل دیکھے جا رہا تھا، اس کے چہرے پر بلا کی معصومانہ سنجیدگی تھی۔
اسی اثناء میں کان میں آواز پڑی کہ کوئی شخص ڈرائیور سے واسطے والی بات پوچھ رہا تھا۔ تو ڈرائیور نے جواب دیا کہ ان کا اسکول یہاں سے تھوڑا دور ہے، ہم گاڑی نہ روکیں تو یہ بولتے ہیں کہ اللہ کا واسطہ ہے۔۔۔۔۔۔
میں کراچی میں رہتا ہوں، کئی بار ایسے سخت معاملات سے بھی گزرا کہ ہاتھ خون میں لت پت تھے اور زخمی کو ہسپتال لے جارہا تھا، ایسے واقعات بھی اپنی آنکھوں سے دیکھے کہ دھماکہ ہوا اور انسانی اعضاء فضاء میں اڑے، اپنے گھر ٹپکتی اور گرتی ہوئی چھت بھی دیکھی، آنسو گیس، پولیس کی ڈنڈے واٹر کینن بھی دیکھے۔
لیکن پتا نہیں اس بچے کے چہرے پر کیا معصومانہ خودداری کی جھلک تھی کے واسطے کی بات کان میں پڑتے ہی میرا ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا اور میرے آنسو نکل پڑے۔ ہم تو ڈرتے ہیں ہیں ناں کہ مرد کے آنسو نہ نکلیں! کیوں جی ؟ جی اس لئے کہ مرد روتے نہیں ہیں۔ نہیں جناب تھوڑی تبدیلی کرلیں، مرد رُلاتے نہیں ہیں۔
آنسو جب گال پر پہنچے تو یاد آیا کہ میں شاید کسی کمزور دل کا بندہ صحیح لیکن میرے آلے دوالے بڑے مضبوط اعصاب کے مالک حضرات و خواتین موجود ہیں، جن کو میرے آنسوں پر ہنسی آنے لگ گئی تھی۔ جلدی سے آنسو پونچھے اور یاد گار کے طور پر اس بچے کی تصویر اس طرح لی کے اس سمیت پوری گاڑی کو بتہ بھی نہ چلا (وہ کیوں اور کیسے یہ بعد میں بتاوں گا) ۔
قریباً پانچ منٹ گزرے ہونگے کہ گاڑی رکی اور وہ سب بچے اتر گئے۔ تو میں نے جھٹ سے اس اسکول کی بھی تصویربنالی۔
مسئلہ صرف اس اسکول یا ایک بچے کا نہیں ہے۔ کشمیر میں ہزاروں بچے صبح سویرے اپنے پانچ سات بلکہ شاید دس کلو وزنی بیگ اٹھا کر کئی کلومیٹر پیدل سفر کر کے اسکول پہنچتے ہیں۔ تھکے ہارے اسکول پہنچ کر انھوں نے پڑھنا بھی ہے اساتذہ سے نالائقی کے طعنے اور مار الگ۔
جو گاڑی میں جاتے ہیں ان کی تکلیفیں ایک الگ داستان ہیں۔ ایک ٹیوٹا ہائی ایس جس میں زیادہ سے زیادہ اٹھارہ سواریاں سیٹ تو سیٹ بیٹھتی ہیں، اسی ہائی ایس میں صبح اننچاس یعنی ۴۹ بچے اسکول جاتے ہیں۔ جی ہاں۔
اگر آپ کو یہ فرضی منجن لگ لگ رہا ہے تو میں آپ تو ایک وین کی اسکول کی تمام سواریوں کی لسٹ، تصویر اور ڈرائیور صاحب سے ہونے والی کال پر بات کی فون ٹیپ بھی بھیج دوں گا۔
عرض ہے کہ مسئلے سب بیان کرتے ہیں، مسئلوں کے حل کے لیے بھی تو بات کیجئے۔
یہ سوچیں کہ اس مسئلہ کو کیسے حل کیا جائیگا۔
میرا آپ سے کوئی مطالبہ نہیں، لیکن میں خود ایک قدم اٹھانے کا ارادہ کر چکا ہوں کہ میں کشمیر کے اسکولوں کا ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل کروں گا انشاء اللہ۔
میں جانتا ہوں کہ یہ ایک بہت بڑا اور مشکل کام ہے، لیکن کیا ہوا ہر بڑے کام سے پہلے ایک بڑا ارادہ اور بڑا پلان ہی ہوتا ہے۔
میں یہ نہیں کہتا کہ آپ میری مدد کریں اسمیں، مدد کریں نہ کریں، بس مخالفت نہ کیجئےگا۔ عین ممکن ہے جب میں اپنا پلان واضح کروں تو میرے ہی دوست یا رشتہ داروں میں سے میری مخالفت ہو، لیکن خیر ہے، ہونے دیجئے، میں نے جو کرنا ہے جہاں پہنچنا ہے ، انشاء اللہ پہنچ کر ہی دم لوں گا۔
جو دوست مدد کرنا چاہیں وہ بس ہاتھ اٹھا کر دعا دیں۔
وہ دن دور نہیں جب کشمیر و پاکستان کے دور افتادہ علاقوں میں رہنے والے بچے بھی صبح اسکول پہنچیں گے تو مکمل تازہ دم ہوا کریں گے۔ ان کو اسکول پہنچنے کے لیے روڈ میں کھڑے ہو کر کسی کو اللہ کا واسطہ نہیں دینا پڑے کا، کوئی بچہ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے کسی کہ قدموں میں بیٹھ کر سفر نہیں کریگا۔
دعا کے ذریعے میری مدد کیجئے گا۔
حصولِ علم ہو سب کے واسطے آسان
بس یہی ہے پر امن انقلاب کی صورت۔

*میں نے اس بچے کی تصویر کیسے اور کیوں لی؟*
*کیسے*:
میں نے وہ تصویر ایسے لی کہ تمام گاڑی والوں کی نگاہیں اور توجہ میری مخالف جانب ہو گئی، اور میں نے جھٹ سے تصویر لے لی، توجی کیسے دوری جانب کی تو یہ میرا آرٹ ہے، بتاوں گا تھوڑی۔
*کیوں*:
اس لیئے کہ یہ تصویر جب جب دیکھوں گا ان بچوں کی تکلیف مجھے مزید تکلیف دے گی اور میں مزید رفتار سے اپنے مشن کی طرف بڑھوں گا۔ یہ تصویر اس انجن کا کام دے گی جو اکیلا پندرہ بیس بوگیوں کو گھسیٹ کر کراچی سے لنڈی کوتل تک پہنچانے کی طاقت رکھتا ہے۔
یہ تصویر مجھے مرسڈیز میں بیٹھتے ہوگئے شرم دلائے گی کہ تیرا بھائی جوتیوں میں بیٹھا ہے اور تو ؟ در لکھ دی فٹے منہ۔

چلو بھائی کافی کیسٹ چل گئی، اب میں بھی چلا۔
اللہ حافظ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *