اختر کالونی میں آتشزدگی کا واقعہ

جمعہ 16 جون 2017 کو اختر کالونی، سیکٹر ڈی، گلی نمبر 4، مکان نمبر 229 میں سہہ پہر کے وقت آگ بھڑک اٹھی۔

گلی نمبر ۴ کے نوجوانوں نے کینٹونمنٹ بورڈ کلفٹن  کی آگ بجھاننے والی ایک گاڑی  کے ساتھ مل کر تقریباً دو گھنٹے کی انتھک محنت   کے بعد اس آگ پر قابو پالیا ۔

ابتداء  میں ہی اس عمارت میں موجود تمام افراد کو بخیرو و عافیت نکال لیا گیا تھا۔

آگ لگنے سے لے کر  مکمل طور پر آگ بجھنے  اور تمام مکینوں کے واپس گھر آنے تک میں خود جائے وقوعہ پر موجود تھا، اس تمام دورانیہ میں جیالوں، شیروں، ساتھیوں، ٹائگروں  اور خدمت کے نام  دین کا جھانسا دے کے سیاست چمکانے والے حالح مومنین میں سے کوئی ایک بھی موجود نہیں تھا، جو کچھ بھی کیا اسی گلی کے لڑکوں نے اپنے بل بوتے پر کیا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس موقع پر مقامی انتظامیہ کہاں تھی ؟

کہاں تھے وہ سب لوگ جو ایک کچرے کا ڈبہ بھی رکھوالیں تو  اپنی سیاسی جماعت کے فیس بک پیج پر لازمی ڈالتے ہیں ؟

مسلم لیگ ن کے متحرک ترین سیاسی کارکن  اور آنے والے ضمنی الیکشن کے لئے ووٹ مانگتے  اور اپنے فلاحی کاموں پر داد سمیٹتے  ندیم اختر آرائیں صاحب آپ اس علاقہ کی اہم ترین انتطامی پوزیشن پر براجمان ہیں، دوپہر 3 بجے سے لے کر شام 6 تک آپ تو کیا  آپ کی قابل ترین ٹیم میں سے بھی ایک بھی شخص جائے وقوعہ پر موجود نہیں تھا۔

ایک روپیہ لیٹر  پانی بیچ کر عوام کی خدمت کا دعوے دار الخدمت اینڈ کمپنی  میں سے بھی کوئی موجود نہیں تھا، ، کہاں گئے سابق ناظم صاحب اور ان کی قابل ٹیم میں موجود سابق کونسلر حضرات ؟

قائدِ عوام ذولفقار علی بھٹو صاحب کی پارٹی کہلانے والی پیپلز پارٹی  کے عوامی نمائندگان  اور ان کے مقامی حمایتی کہاں تھے ؟

پاکستان کے مقبول ترین عوامی لیڈر  سمجھے جانے والے عمران خان صاحب کی پارٹی   کے عوامی  امیدوار برائے صوبائی اسمبلی نجیب ہارون صاحب   کہاں تھے ؟

علاقہ کے پانی کے مسئلہ پر فیس بک پر سیاست چمکانا بہت آسان ہے۔  جان ہتھیلی پر رکھ کر، آگ میں کود کرزندگی بچانا بہت مشکل کام ہے صاحب۔

اختر کالونی مکینوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ  اور مسیحاوں کے روپ میں الیکشن کے دنوں میں آنے والے برساتی مینڈکوں  کا علاقہ مکینوں اور ان کا مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اسی روڈ پر آتشزدگی کے دو واقعات پہلے بھی ہوچکے ہیں۔

پہلا ، سیکٹر ای  عیسائیوں  کی علاقہ کی سب سے بڑی عبادت گاہ اور کمیونٹی سینٹر کا سامنے  میزنائن فلور پر موجود  عیسائی ٹی وی چینل  کے اسٹوڈیومیں لگنے والی آگ

دوسرا ، سیکٹر سی ، ظریف صاحب کی چکن شاپ میں لگنے والی آگ۔

کچھ ہی دن میں یہاں ضمنی الیکشن کی گہما گہمی شروع ہونے والی ہے، کیونکہ ۹ جولائی کو اسی علاقہ میں سندھ صوبائی اسمبلی  کے حلقہ ۱۱۴ کی خالی سیٹ پر ضمنی الیکشن ہونگے،آنے والے الیکشن میں   ووٹ ڈالتے وقت یہ تین آتشزدگی کے واقعات،  روزانہ پانی کے لئے کی جانے والی خواری ،  لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج کرنے والے اختر کالونی کے نوجوانوں کی پولیس کے ہاتھوں پٹائی، علاقہ میں پھیلتی ہوئی جرائم اور دہشت گردی کی وارداتیں ، *علاقہ میں پھیلتی ہوئی فحاشی*  کو ضرور یاد رکھیے گا۔

ووٹ ایک مقدس امانت ہے،

آپ کا ووٹ لے کر جو بھی آگے جائے گا، وہ اگر ایک بھی نیکی  یا فلاح کا کام کرتا ہے تو اس کا ثواب آپ کو بھی ملیگا۔ لیکن وہی شخص اگر ایک گناہ یا ایک روپے کی بھی کرپشن کرتا ہے تو اس ایک روپے کی کرپشن اور گناہ میں آپ بھی حصہ دار ہونگے۔

سوچ سمجھ کر فیصلہ کیجئے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *