ہم اور ہمارا ڈر

آج دوپہر میں نے آفس سے بریک لی۔
قریبی بینک جا کر اپنے اکاونٹ میں پیسے جمع کروانے تھے۔
تقریباً چار بج کر دس منٹ پر میں خیابانِ اتحاد ڈیفنس فیز ۲ کے اسٹینڈرد چارٹرد بینک مین پہنچ کر کیش جمع کروانے کی لائن میں لگ چکا تھا۔
یہ ایک چھوٹی برانچ ہیں جس میں دو کیش کاونٹر ہیں۔
جس میں سے بھی ایک آج نہیں چل رہا تھا۔
خیر، لائن میں مجھ سے آگے پانچ چھ حضرات موجود تھے، اور پیچھے تقریبا۴ لوگ مزید آچکے تھے۔
کئی ایک افراد نے اس چیز پر ہلکی ہلکی سرگوشیوں میں تشویش کا اظہار بھی کیا۔ لیکن کیا ہے ناں ہم حق مانگنایا چھیننا تو درکنار، یہ جاننا صرف کہ ہمیں کس چیز کا حق حاصل ہے، یہ جانتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں۔
خیر، اس اثناء میں ایک اور بزرگ بینک میں داخل ہوئے، پہلے تو چپ چاپ لائن میں لگ گئے، پھر ایک بار اونچی آواز میں دوسرا کیش کاونٹر نہ چلنے پر تشویش و افسوس کا اظہار کیا۔
قریباً پانچ منٹ بعد اور والے فلور سے ایک صاحب نیچے تشریف لائے تو ، بزرگ نے ان سے سوال کیا کہ
are u branch manager ?
کیا آپ برانچ مینیجر ہیں ؟
انھوں نے اثبات میں جواب دیا تو بزرگ نے ان سے دوسرا کیش کاونٹر نہ چلنے پر استسفار کی۔
جس پر جواب یہ ملا کہ، اس پر جو صاحب ہیں ان کی آئی ڈی ابھی ایکٹیو نہیں ہوئی جس وجہ سے وہ کاونٹر نہیں چل سکتا۔
ایک دو منٹ گزرے ہونگے کہ برانچ مینیجر صاحب اسی کاونٹر پر چند کاغذات تھامے ہوئے نظر آئے اور ان بزرگ کو اشارہ سے اور پھر آہستگی سے کہا کہ آپ آگے آجائیے (دوسرے کاونٹر پر) ، پھر مینیجر صاھب اس کاونٹر سے اندر ہدایت جاری فرمانے لگے۔ پیچھے کھڑے ہوئے تمام حضرات کو معاملے کی اصل معلوم نہ تھی، لہذا وہاں موجود ہی ایک صاحب نے قدرے اونچی آواز میں بولا کے سینئر سیٹیزن یعنی بزرگ شہری ہیں۔ مجھ سے آگے جو صاحب کھڑے تھے (جنھوں نے خود کچھ دیر پہلے ایک تیر مارا تھا) بولنے لگے کہ کیا اور بزرگ شہری نہیں ہیں۔ جس پر میں نے اپنے سے پیچے موجود ایک سفید ڈاڑھی کے حامل بزرگ کو کہا کہ آپ بھی جا کر ان صاحب کے پیچھے کھڑے ہوجائیے۔ وہ چلتے بنے۔
پیچھے ایک اور صاحب موجود تھے، وہ بھی سفید ریش تھے، لیکن مکمل خاموش تھے، وہ صاحب ایک مخصوص مذہبی اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں، جو بالعموم شریف اور دنگا فساد سے دور سمجھے جانے والی کمیونٹی سمجھی جاتی ہے۔ میں نے ان صاحب سے کہا کہ آپ بھی بزرگوں والی قطار میں تشریف لے جائیے۔
وہ بزرگ بہت پیاری مسکراہٹ کہ ساتھ نفی میں جواب دے گئے۔ جس پر میں نے ان سے باقاعدہ ریکویسٹ کی کہ آپ جائیے، اگر مینیجر صاحب یا بینک اسٹاف میں سے کوئی بھی معترض ہوگا تو میں خود ان سے بات کرنے کو تیار ہوں۔ جو استثناء سب سے پہلے والے بزرگ کو حاصل ہے، وہی ان کو بھی ہے۔
قصہ مختصر وہ تینوں بزرگ ہم سب سے جلدی فارغ ہو چکے تھے۔
اب آتے ہیں بینک انتظامیہ کی طرف، تو عرض ہے کہ ایک طرف ایک کاونٹر پر دو قطاریں بنادیں جاتیں ہیں، اور دوسری طرف دوسری دوسرا کاونٹر مکمل خالی پڑا ہے۔ مہینے کا شروع ہے اور اس میں اکثر و بیشتر لوگ کیش نکلوانے اور جمع کروانے بینک کا رخ کرتے ہیں، یہی وجو ہے کے مہینے کے شروع کے دنوں میں بینکوں میں کافی رش ہوتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ بینادی کامن سینس کی بات مجھ جیسے شخص کو معلوم ہے، جسکا مہینے میں شاید ایک بار ہی بینک جانا ہوتا ہو۔ تو کیا یہ بات بینک انتظامیہ تو نہیں معلوم ہوگی ؟ کیا مسئلہ ہونے کے بعد ہی اس کا حل کیا جاتا ہے یا عقل مندوں کا طرزِ عمل یہ ہوتا ہے کہ اگر ان کو معلوم ہے کہ یہ مسئلہ آنے والا ہے تو پہلے ہی اس مسئلے کے حل کے انتظامات کی جائیں ؟
انگریزی کی دو اصطلاحات ہیں

Reactive approach and Proactive approach.
Reactive approach کو عام زبان میں ہم ردِ عمل کہہ سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر کسی روڈ کے اطراف میں کچی یا پتھریلی زمین ہے یا چٹانی پتھر ہیں تو اس روڈ پر اگر کوئی گاڑی بے قابو ہوگی تو گاڑی کے ٹائیروں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے، اس روڈ پر حفاظتی باڑھ لگائی جائے گی تو یہ ہوگی۔
لیکن اسی روڈ پر سائیڈ پر اتر جانے کی وجہ سے دو تین ایکسیڈینٹ ہو جاتے ہیں اور اس کے بعد باڑھ لگائی جاتی ہے تو یہReactive approach

کہلائے گی۔
بینک والے واقعہ سے جو دوسرا نتیجہ میں نے اخذ کیا، وہ یہ ہے کہ بالعموم ہم عجیب ڈر و بزدلی کا شکار ہیں۔ اپنا حق چھیننا یا مانگنا تو دور کی بات ہم کسی سے اپنے حق کے بارے میں پوچھتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں، اور عجیب شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔
ایسا کیوں ہے ؟
ہم اس خود ساختہ خوف سے کب نکلیں گے ؟
روڈ پر دیوٹی دیتے ہوئے پولیس والے بھی ہمارے جیسے انسان ہیں، ہمارے بھائی ہیں، ہم ان سے سوال کرتے پوچھتے ہوئے کیوں ڈرتے ہیں ؟
قانون آپ کو اس چیز کا بھی حق دیتا ہے کہ آپ کسی ٹریفک پولیس کے افسر سے پوچھ سکتے ہیں کہ کن کن کاموں پر کیا کیا اور کتنے کا چالان بنتا ہے۔
قانون آپ کو اس چیز تک کا حق دیتا ہے کہ آپ پولیس اسٹیشن جا کر جرائم ان پر لاگو دفعات اور ان کی سزائیں پوچھ سکتے ہیں۔
لیکن ہمارے اندار کا ڈر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
آج کل پانامہ کیس اور پارک لین فلیٹس کے بڑے چرچے ہیں، ہر دوسرا شخص اس پر اپنے دلائل اور ماہرانہ تجزیہ پیش کرتا نظر آتا ہے۔ لیکن دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کیا آپ کو عدالت میں طلب کیا جائے اور آپ سے کوئی سوال نہ ہو بلکہ آ پ کو سوال کرنے کا کہا جائے آپ اپنے اندر وہ ہمت رکھتے ہیں کہ اپنا ماہرانہ تجزیہ تو رہا ایک طرف ، صرف سوالت پوچھ لیں جو آپ کے ذہن میں ہیں ؟
جناب ہم تو بینک میں دوسرا کاونٹر بند ہونے پر اعتراض کرنا تو دور کی بات، سوال نہیں کر پاتے کہ کاونٹر بند کیوں ہے تو ہم سیاست دانوں اور کاروباری لوگوں سے اربوں ڈالروں کی کرپشن کا کیا حساب مانگیں گے۔
ہم اشرف المخلوقات ہیں، اللہ تعالیٰ نے کائنات کو ہمارے لیے مسخر کردیا لیکن ہم ہی اپنے جیسے انسانوں کے جھوٹے خوف میں مبتلا ہو کر معاشرہ خراب کیے جارہے ہیں۔
ایک ذاتِ لم یزل کے خوف کے سوا اپنے اندر سے ہر خوف و ڈر نکال لیجئے، پھر دیکھئے کیسے معاشرہ سیدھا ہوتا ہے۔
عروجِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں۔
یہ ٹوٹا ہوا تارہ مہہِ کامل نہ بن جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *