آہ، کشمیر یتیم ہوگیا

رات کے چار بج کر دس منٹ ہو چکے ہیں، لیکن نیند آنکھوں سے اتنی دور ہے کے ایک جھلک بھی نہیں دکھتی۔

عجیب درد کی سی کیفیت ہے۔ کیوں آخر کیوں ؟

دل کر رہا ہے کہ اپنے کسی پیارے سے لپٹ کر دحاڑیں مار مار کر آنسو بہاوں، شاید یہ درد کچھ کم ہو، یہ حد درجہ درد کیوں ہے ؟

اس لئے کہ

آج کشمیر یتیم ہو گیا

جمعہ کی نماز کے بعد آفس پہنچا اور روٹین کے کاموں میں لگ گیا، سب کچھ معمول کے مطابق تھا، بعد نماز عصر واٹس ایپ پر ایک پیغام موصول ہوا جسمیں حضور شیخ العالم حضرت پیر علاالدین صدیقی صاحب کے وصال کی خبر تھی۔ یقین نہ آیا، تو میسج کرنے والے سے پوچھ لیا کے کیا ماجرا ہے، پھر انھوں نے معذرت کر لی کہ نور ٹی وی پر اب تک دعائے صحت کا آرہا ہے، لہذا یہ خبر درست نہیں ہے۔ دل کو تسلی ہوئی لیکن ایک عجیب سا خوف جو کئی دن سے حضرت کی علالت کا سن کر دل میں موجودتھا، مزید بڑھ گیا۔ اسی اثناء میں اپنے آفس کے ایک ساتھی کو میں نے میسج کیا کہ یار عجیب ڈر سا لگ رہا ہے، صدیقی صاحب کے حوالے سے، چند ہی لمحوں بعد اسی دوست نے ایک فیس بک پوسٹ پر مجھے کمنٹ مینشن کردیا، جس میں حضرت صدیقی صاحب کی وفات کی روح فرساں خبر تھی، عجیب جھٹکا کا لگا اور چند لمحوں میں آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا، لیکن خود پر قابو پا لیا، شاید اصلاً میرا دل و دماغ اس خبر کو تسلیم ہی نہیں کر پایا تھا۔ کچھ دیر میں فیس بک واٹس ایپ سب بند کر کے روٹین کے کاموں میں لگ گیا۔ جیسے تیسے باقی دن گزرا۔ اس دوران چند احباب اور رشتہ داروں کو میسج کر کے اطلاع بھی کردی۔

رات قریباً بارہ بجے گھر پر موجود تھا اور کھانا وغیرہ اور دیگر تمام معاملات سے فارض ہوکر بستر ہر آیا تو پھر فیس بک کھولا، میرے فیس بک اکاونٹ سے منسلک اکثر احباب نے حضور شیخ العالم، حضرت پیر علاءالدین صدیقی صاحب کی تصاویر شیئر کی ہوئیں تھیں، جن کے ساتھ تعزیتی پیغامات بھی تھے۔ عجیب کی کیفیت ہونے لگی اور میں نظر آنے والی ہر تصویر کو موبائل میں محفوظ کرتا گیا۔ دل جس جھوٹی تسلی کی دیوار سے سہارے لئے ہوئے تھا، وہ یک دم ڈھے گئی، یقین آگیا کہ حضور شیخ العالم اس دارِ فانی سے تشریف لے گئے ہیں۔

کتنی ہی دیر میں حضرت کی تصاویر کو دیکھتا رہا اور دل نے چیخ کر دماغ کو کہا کہ

کشمیر یتیم ہوگیا

پھر آنسووں پر قابو نہ رہا، سر شدتِ درد سے پھٹنے کو تھا قریب پونے دو بجے شائد آخری بار گھڑی دیکھی اور پھر بے سدھ ہو گیا۔

آنکھ کھلی تو بڑے بھائی کو پاس پایا ، ولے کہ ابھی تک سوئے نہیں، پھر بولے کے باہر آندھی چل رہی ہے، شائد بارش شروع ہونے کو ہے۔

کچھ دیر بعد تیز بارش شروع ہو گئے ، میں بستر سے نکل آیا اور باہر صحن میں بیٹھ گیا، میری آنکھیں بھی نقل کرنے کی کوشش کرنے لگیں، بس

آئی جب تیری یاد،

پھر کچھ بھی نہ رہا یاد۔

کچھ تکلیف کم ہوئی تو سوچا کہ میرا کیا تعلق تھا حضرت سے ؟

میں مرید تھا ؟ نہیں تو۔

میں حضرت کے اسکول سسٹم سے پڑھا ہوں ؟ میں نے حضرت کی بنائی ہوئی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ؟ پھر کیا تعلق میرا حضرت سے ؟ میں کیوں تڑپ رہا ہوں آپ کو یاد کر کے ؟

میری یاد داشت مجھے اب سے ڈیڑھ سال پیچھے لے گئی۔

یہ یکم مئی ۲۰۱۶ تھا، میں صبح کی فلائٹ سے اسلام آباد پہنچا، بھائی کے دیرینہ دوست جناب شہباز تنولی صاحب نے ایئر پورٹ سے لیا اور اپنے گھر لے گئے۔

کچھ دیر آرام کیا پھر تازہ دم ہو کر تاجدارِ گولڑہ کے قرب میں نمازِ جمعہ ادا کی، اسکے بعد کھانا کھا کر، ڈھوک کشمیریاں میں موجو د حضور شیخ العالم کے آستانے کی جانب روانہ ہوئے جہاں حضرت عام ملاقات فرماتے تھے۔

مغرب کا وقت قریب تھا، مغرب کی نماز ادا کی اور پھر حضرت سے ملاقات کو حاضر ہوا، عرض پیش کی کہ میں جناب کے حضور کچھ دیر بیٹھ کر حضرت کے مواعظِ حسنہ سننا چاہتا ہوں، عرضی قبول ہوئی ۔

چونکہ اس وقت کچھ اور لوگ بھی موجود تھے جو ملاقات کے لے حاضر ہوئے تھے، اس لئے ان کے بعد ناچیز کو وقت دے دیا گیا۔

میرا اگلے دن علی الصبح کشمیر کے لئے نکلنے کا ارادہ تھا۔

خیر، حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا، حضرت سے کچھ باتیں ہوئیں۔ حضرت اس شفقت سے پیش آئے گویا میں حضرت کا کوئی نہایت قریبی ہوں۔ بہت پیار سے، خوبصورت الفاظ سے گفتگو، لہجہ میں وہ اخلاص کے جس میں بناوٹ کا شائبہ بھی نہ ہو۔ قصہ مختصر کہ میں نے اپنی تمام بات مکمل کرنے کے بعد مصافحہ کو ہاتھ پڑھایا، دست بوسی کا شرف حاصل ہوا، حضرت نے پوچھا روانگی کب ہے، تو میں نے عرض کی کے کل صبح کا ارادہ ہے۔ حضرت نے نہایت محبت بھرے لحجہ کے ساتھ فرمایا

آج پمارے پاس نہیں رکتے ؟ آج ہماری میزبانی میں رہیں۔

اس پرخلوص دعوت پر کون لبیک نہیں کہے گا۔ فوراً ہامی بھر لی۔

قصہ مختصر میں اگلے دن دوپھر کو یہاں سے روانہ ہوا۔

یہ روداد تھی میری حضرت سے پہلی اور آخری ملاقات کی۔

اسوقت صبح کے پانچ بج چکے ہیں۔ آنکھیں بہہ بہہ کر درد سے بھر چکی ہیں۔

لیکن وہ دن اور ملاقات اور پیار بھلائے نہیں بھولتا، میری تو صرف ایک ملاقات ہوئی تھی۔ جو روزانہ حضرت سے ملتے ہوں گے ان کی اس وقت کیا کیفیت ہوگی ؟

الحمد للہ میرے والد و والدہ دونوں حیات ہیں، مرشدِ گرامی حضرت صوفی جمیل الرحمٰن قادری صاحب بھی حیات ہیں۔ لیکن بخدا مجھے اس وقت مجھے ایسے محسوس ہو رہا ہے جیسے میں یتیم ہو گیا ہو۔

کیوں آخر کیوں ؟

جس نے ایک ملاقات میں، ایک اجنبی کو، جسکی آپ سے پہلی ملاقات ہو، نہ وہ آپ کا قریبی ہو، نہ وہ آپ کا مرید ہو نہ ہی کوئی اور تعلق واسطہ، ، چند ساعتوں میں اتنا پیار دیا کہ رات کے اس پہر غیر ارادی طور پر میرے آنسو بہے جارہے ہیں۔ وہ اپنے مریدین میں اپنے متعلقین میں کیسا ہوگا، آج ان کے دل پر کیا بیت رہی ہوگی ؟

حضرت نے کشمیر جیسے پسماندہ علاقے میں میڈیکل اور انجئنیرنگ یونیورسٹی اور اسکول سسٹم بنا کر قوم کی جو خدمت کی ہے اس کا ثانی کشمیر کی چھ ہزار سالہ تاریخ میں نہیں ملتا۔

نور ٹی وی اور دربارِ عالیہ نیریاں شریف بھی حضرت کی خدمات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

اتنا سب کچھ کرنے ے باوجود بھی حضرت نے اپنی کسی خدمت کو کیش کروانے کی کوشش نہ کی۔

اسکا عشر عشیر بھی اگر کسی پاکستانی یا کشمیری سیاست دان نے کیا ہوتا تو آپ ان صاحب کو اگلے 30 سال اسمبلی میں رونق افروز دیکھتے اور ان کے جانے کے بعد انکی تین نسلیں انھی کی محنت کا ثمر اسمبلی سے وصول کر رہی ہوتیں۔ لیکن یہ اللہ والے ہیں جو اللہ کی مخلوق کی خدمت بغیر کسی لالچ کے کرتے ہیں۔

یہ اللہ والے ہیں جو اللہ سے ملاتے ہیں۔

میں ابھی تک اس ایک پہلی اور آخری ملاقات کی کیفیت سے باہر نہیں آپایا، اور دوسری طرف ایک عجب دکھ اور کرب ہے کہ اب میری حضرت سے ملاقات نہیں ہو پائے گی۔

میں ایک بار مل کر ایسی حالت میں ہوں تو ان کے قریبی۔۔۔۔۔۔۔

حضر ت کا وصال پر یہ مصرعہ صادق آتا ہے کہ

عرش پر دھومیں مچیں وہ مومن صالح ملا،

فرش سے ماتم اٹھا وہ طیب و طاہر گیا۔

یا اللہ مجھے صبر دے اور حضرت کے اصلاحی اور خدمتِ خلق کے مشن کو آگے بڑھانے کی توفیق و ہمت دے۔

آپ سے درخواست ہے کے کم از کم تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھ کے، حضرت کو ایصالِ ثواب کا تحفہ پیش کیجئے اور حضرت کے بلندیِ درجات اور ان کے صدقے و طفیل مجھ گناہ گار کے لئے دعائے مغفرت فرمائیے۔

اللہ سے دعا ہے کے رب کریم ہم سب کو اپنے پیاروں کے طریقے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

دل و دماغ میں ایک بات مسلسل گونج رہی ہے

آہ، کشمیر یتیم ہوگیا!

2 thoughts on “آہ، کشمیر یتیم ہوگیا

  1. Allah Huzoor k darjaat ko buland farmae, R un k sadqy hamari Maghfirat farmae, R Lawahiqeen ko Sabar e Jameel Ata farmae…
    Ameen..
    R Ap ki kawish bohat achi hai, mje nhi andza tha k Ap itny achy writer b hen…
    Allah Taraqqi Ata farmae…r Ahlesunnat k liye b apko qalam uthany ki Taqat ata farmae.
    Kuch typing mistakes hen..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *