جدید ایجادات اور مسلمان

بلاشبہ اس دور میں امتِ مسلمہ زوال کی طرف گئی ہے اور مسلمان سائینسی ایجادات اپنے نام نہیں کروا رہے، بلکہ یوں کہاجائے کہ اس زمانے میں ہونے والی اکثر سائینسی ایجادات مسلمانوں سے منسوب نہیں ہیں۔
لیکن اس حوالے سے چند امر توجہ طلب ہیں
پہلی بات تو یہ کہ موجودہ دور کی دنیا میں ہونے والی اکثر ایجادات تمام اقوامِ عالم، مذاہب، ممالک بلکہ تمام انسانیت کو مشترکہ ورثہ و اثاثہ ہیں۔ اس کو کسی ایک مذہب یا کسی ایک قوم کی طرف منسوب کرنا زیادتی ھوگا ۔
اس میں عیسائی بھی ہیں، مسلمان بھی ہیں، سکھ بھی ہیں، یہودی بھی ہیں، دیگر مذاہب کے ماننے والے، یہاں تک کہ وہ لوگ کسی مذہب کی پیروی نہیں کرتے، وہ بھی ان ایجادات میں شامل ہیں۔ کیوں ؟
اس وجہ سے کہ آپ دنیا کے تمام بڑے سائینسی تحقیقاتی مراکز کا دورہ کر لیجیئے وہاں آپ کو ہر دین و مذہب کے ماننے والے ملیں گے۔ یہاں تک کہ انتہائی اہم عہدوں پر آپ کو مسلمان ملیں گے۔
دوسری بات یہ کہ ایک ایجاد کے تصور (آئیڈیا) سے لے کر مکمل تیار ہوکر مارکیٹ میں آجانے تک وہ کئی ایک مراحل سے گزرتی ہے
اور اس کی تیاری کے تمام مراحل میں اس پر کام کرنے والے افراد اکثر الگ الگ ہوتے ہیں
آئیے اس کو ایک سادہ سی مثال سے سمجھتے ہیں،
کچھ عرصہ قبل Gravitational waves کے حوالے سے ایک تحقیق سامنے آئی۔
اس تحقیق کی تفصیل میں جائے بغیر ہم سردست یہ دیکھ لیں کہ اس کا سہرا کس شخص یا قوم کے سر ہے ؟
تو عرض ہے کہ اس تحقیق کی ابتدا البرٹ آئین اسٹائین کے دیے ہوئے ایک مفروضے کی ایک سطر سے ہوا۔ جس پر تحقیق ہوتی رہی اور مختلف ممالک میں مختلف قوموں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد اس موضوع پر اپنی اپنی تحقیقات کرتے رہے۔ تب کہیں جا کر گزشتہ برس میں اس پر ایک جامع تحقیق سامنے آئی۔ آپ کو یہ جان کر شاید خوشگوار حیرت ہو جس ادارے کی طرف سے موجودہ تحقیق پیش کی گئی ہے، اس ادارے کی اسی موضوع پر تحقیق کرنے والی ٹیم میں پاکستانی مسلمان سائینسدان بھی شامل ہیں۔ لیکن نہ ہی میں یا کوئی عقلمند اس کو پاکستان یا مسلمانوں کی طرف منسوب کریگا۔ کیونکہ دیگر سینکڑوں بلکہ ہزاروں لوگوں نے اس پر کام کیا، اور اثاثہ و ورثہ ِ انسانیت میں اپنا حصہ ڈالا۔
یاد رہے کے آئین اسٹائین نے تقریباً ایک صدی قبل یعنی ایک سو سال پہلے یہ مفروضہ پیش کیا تھا۔
مشہور ویب سائیٹ The Guardian نے اس حوالے سے اپنی خبر کی سرخی مندرجہ ذیل الفاظ میں پیش کی
Gravitational waves: breakthrough discovery after a century of expectation
یعنی
گرتوپی لہریں: امید کی ایک صدی کے بعد پیش رفت/دریافت
اب سوچیے کہ کیا ایک صدی اس موضوع پر صرف ایک شخص، ایک مذہب کے ماننے والے، ایک قوم کے باشندے، یہاں تک کے صرف ایک ادارہ کے افراد کام کرتے رہے ؟
یقیناً نہیں!
تو کیا اس دریافت کو ایک دین و مذہب، یا ایک قوم یا ایک ملک یا ایک ادارہ کی طرف منسوب کرنا صحیح ہوگا ؟
یا کسی ایک قوم مذہب و دین کو اس بات کا طعنہ دینا کے اسکا اس دریافت میں کوئی کردار نہیں سراسر حقائق سے نظریں چرانا بلکہ اس قوم، مذہب و دین سے نا انصافی نہیں ہے ؟

آئیے ایک اور حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہیں۔
اس وقت دنیا بھر میں خلائی تحقیقات کے لحاظ سے ناسا (Nasa) سب سے بڑا اور معتبر ادارہ سمجھا جاتا ہے، اور یقیناً ہے بھی۔ ناسا میں اس وقت کئی مسلمان کام کرتے ہیں، جن میں کئی ایک خلائی تحقیقات کے شعبہ جات کی اہم پوزیشنز پر ہیں۔
جناب کو یقین نہ آئے تو مندرجہ ذیل ویب لنک کو وزٹ کیجئے،
http://science.gsfc.nasa.gov/sci/staff
جس میں ناسا کے اکثر اسٹاف کی لسٹ موجود ہے، اس میں ایک دو نہیں، بیسیوں نہیں، بلکہ سینکڑوں مسلمان بھی ملیں گے۔
مندرجہ بالا مثال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نہ صرف سائینسی تحقیقات بلکہ فنون میں بھی تمام اقوام اور مذاہب و ادیان، اپنا حصہ ڈالتے ہیں، اس لیے کہ یہ تمام انسانیت کا ورثہ ہے۔

مجمع فقہ الاسلامی کے نام سے ایک عالمی ادارہ ہے، جو اسلامی کانفرنس تنظیم(OIC) کے ماتحت کام کر رہا ہے، اس ادارہ کو دنیا بھر سے مختلف سوالات موصول ہوتے ہیں جن کا تعلق بالواسطہ یا بلا واسطہ اسلامی شریت سے ہے۔ اس ادارے کو کئی سوالات ناسا میں کام کرنے والے مسلمان سائنسدانوں کی طرف سے بھی موصول ہوئے ہیں اور ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر قطب شمالی (North Pole) میں محقیقین کی ایک ٹیم بھیجی جارہی ہے اس میں مسلمان بھی شامل ہیں، تو اس کی حساب سے سوال کہ وہاں نماز و روزہ کے اوقات کا تعین کیسے ہوگا ؟ (کیونکہ وہاں پر مسلسل چھ ماہ کا دن/رات ہوتے ہیں)
یہ صرف ایک مثال ہےورنہ ایسے کئی ایک سوالات روزانہ اس ادارے کو موصول ہوتے ہیں۔ سوچیے کیا ان سوالات کے جوابات کے لئے تحقیق درکار نیں ہوتی ؟
بلکہ ان سوالات کے جوابات میں تو دوہری تحقیق درکار ہوتی ہی، ایک تو سوال کے زمینی حقائق اور سائینسی پہلو اور پھر اس کی تحقیق قرآن و حدیث اور فقہ سے۔
اب سوچیے کیا مسلمان علماء کوئی تحقییق نہیں کر رہے اور بیکار بیٹھے ہوئے ہیں ؟
نوٹ : اس مضمون کی اگلی قسط میں ہم ان ایجادات کا ذکر کریں گے جن کے ایجاد کرنے والے مسلمان سائینس دان ہیں، اور وہ اس دور میں بھی زیر استعمال ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *